13 فروری 2013 - 20:30

ايران اور آئي اے اي اے کے درميان مذاکرات کا نيا دور بدھ سے تہران ميں شروع ہوگيا ہے-

ابنا: جوہري توانائي کے عالمي اداراے کے نائب سربراہ ہرمين نکارائٹس مذاکرات ميں آئي اے اي اے کي ٹيم کي قيادت کر رہے ہيں-ہرمين نکا رائٹس کا کہنا ہے کہ  مسائل کے حل کے لئے دائرہ کار اور اصول و ضوابط   کو حتمي شکل دينا اور باقي ماندہ مسائل کے تصفيہ کے عمل کو آسان بنانا مذاکرات کا اصل مقصد ہے- انہوں نے کہا کہ وہ ايراني حکام کےساتھ مذاکرات کے دوران نظريات کو قريب لانے اور اختلافات کے خاتمے کي ہرممکن کوشش کريں گے-ايران اور آئي اے اي اے کے درميان ايک سال سے زيادہ عرصے سے  دائرہ کار اور اصول و ضوابط کي تياري کا معاملہ زير بحث ہے جس کا مقصد ايران کے جوہري پروگرام کے حوالے سے  باقي ماندہ مسائل کو نمٹانا ہے-مذاکراتي عمل  کے طول پکڑنے کي باعث ذرا‏ئع ابلاغ ميں طرح طرح کي قياس آرئياں بھي کي جاتي رہي ہيں-        آئي اے اي اے کے معائينہ کاروں نے آٹھ سال پہلے مشرقي تہران ميں واقع پارچين سائٹ کا دو بار  دورہ کيا تھا-   اس معائنے کے نتيجے ميں واضح ہوگيا کہ مذکورہ سائٹ ميں فوجي مقاصد کے لئے جوہري سرگرميوں کے بارے ميں کئے جانے والے دعووں ميں کوئي سچائي نہيں ہے-   ايران اب بھي پارچين سائٹ کے معائنے کي اجازت دينے کے لئے تيار ہے تاہم تہران اس بات پر زور دے رہا ہے کہ معائنہ کاري کا يہ عمل آئي ائے اي اے کے سيف گارڈ معاہدے کے زمرے سے خارج ہے اور ادار ے کے  رکن ملکوں کي ذمہ داريوں کے دائرے  ميں بھي نہيں آتا لہذا ايسي معائنہ کاري کے لئے واضح دائرہ کار کا تعين کيا جانا ضروري ہے-اس تناظر ميں تہران ميں ہونے والے مذاکرات  پارچين کے معانئے کے حوالے سے ايک واضح فريم ورک کے حصول ميں مددگار ثابت ہوسکتے ہيں- ليکن اصل مسلہ ايران کے جوہري پروگرام کے حوالے سے  مغربي ملکوں کے نقطہ نگاہ سے تعلق رکھتا ہے جس کي جانب امريکي صدر نے بھي اپني سالانہ تقرير ميں اشارہ کيا ہے-

اوباما نے کہا ہے کہ ايران کے جوہري پروگرام کو سفارتي طريقے سے حل کرنے کا وقت آگيا ہے - ليکن اوباما نے ايک بار پھر اس بے بنياد دعوے کو دہراتے ہوئے کہ ممکن ہے ايران جوہري ہتھيار بنانے کي کوشش کر رہا ہو، يہ بات پھر دوہرائي  ہے کہ ايران کو جوہري ہتھياروں کے حصول سے روکنے کي ہر ممکن کوشش کي جائے گي-بہرحال اس قسم کے بيانات سے قطع نظر ايران کي واضح پاليسي يہ ہے کہ اين پي ٹي معاہدے کي بنياد پر آئي اے اے کے ساتھ تعاون جاري رکھتے ہوئے اعتماد کو بحال کيا جائے-لہذا ايران شبہات کو دور کرنے اور  رائے عامہ کو يہ باور کرانے کي کوشش جاري رکھے گا کہ اس کا جوہري پروگرام مکمل طور سے پرامن مقاصد کے لئے  ہے- البتہ تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ جو بات مذاکراتي عمل کو مختصر اور فريقين کے لئے ايک قابل قبول اور منطقي نتيجے کے حصول ميں مددگار ثابت ہوسکتي ہے وہ مذاکرات ميں ايک واضح فريم ورک کا تعين ہے- اسي لئے جوہري توانائي کے عالمي ادارے ميں ايران کے مستقل نمائندے علي اصغر سلطانيہ نے کہا ہے کہ اگر آئي اے اي اے ايران کے اصولي اور منطقي تحفظات کو مد نظر رکھے تو   حتمي نتيجے تک پہنچا جاسکتا ہے-

.......

/169